ایشیائی نوجوان ٹائپ 2 ذیابیطس کا تیزی سے شکار کیوں؟

ایشیائی نوجوان ٹائپ 2 ذیابیطس کا تیزی سے شکار کیوں؟
—فائل فوٹو 

ٹائپ 2 ذیابیطس اب صرف بڑی عمر کے افراد کی بیماری نہیں رہی بلکہ ڈاکٹرز 20 اور 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بھی اس کی تشخیص کر رہے ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیائی آبادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد پری ڈائیبٹیز (ذیابیطس سے قبل صحت کی صورتِ حال) یا ذیابیطس کا شکار ہے تاہم بہت سے مریض اس وقت تک بیماری سے لاعلم رہتے ہیں جب تک دل، گردے، آنکھیں یا اعصاب متاثر نہ ہونے لگیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی نوجوانوں میں موروثی رجحان اور تیزی سے بدلتے طرزِ زندگی کا امتزاج اس بیماری کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔ 

بظاہر دبلے ہونے کے باوجود کئی افراد کے پیٹ اور جگر کے گرد زیادہ چربی ہونے کے سبب انسولین کے خلاف مزاحمت بڑھ جاتی ہے اور کم وزن میں بھی ذیابیطس لاحق ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذیابیطس کا خطرہ زندگی کے ابتدائی مراحل سے ہی شروع ہو سکتا ہے، حمل کے دوران ماں کی ناقص غذاء، کم وزن کے ساتھ پیدائش، بچپن میں اچانک وزن بڑھ جانا اور ابتدائی عمر میں غذائی کمی جسم میں شوگر کے نظام کو مستقل طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری زندگی، جسمانی سرگرمی میں کمی، پراسیس شدہ غذاؤں کا زیادہ استعمال، طویل گھنٹوں تک بیٹھے رہنا، ناکافی نیند، مسلسل ذہنی دباؤ اور پٹھوں کی کمی بھی کم عمری میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دفاتر کا ماحول بھی اس بیماری کے بڑھنے میں کردار ادا کر رہا ہے جہاں طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنا، بے قاعدہ کھانا، رات گئے تک کام اور شفٹ میں ڈیوٹی خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

حالیہ تحقیقاتی رپورٹس میں بھی نوجوان ملازمین، خصوصاً 31 سے 50 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس اور پری ذیابیطس کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ 20 سال کی عمر کے افراد میں بھی اس بیماری کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو 35 سال کی عمر میں ذیابیطس ہو جائے تو بیماری کا دورانیہ زیادہ ہونے کی وجہ سے دل کی بیماری، فالج، گردوں کی خرابی، بینائی متاثر ہونے اور اعصابی نقصان جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس ہونے قبل صحت کی صورتِ حال قابلِ واپسی مرحلہ ہے اور بر وقت تشخیص، باقاعدہ ورزش، پٹھوں کی طاقت بڑھانے والی جسمانی سرگرمی، متوازن غذاء، مناسب نیند، وزن پر قابو اور بر وقت طبی معائنہ اختیار کر کے ٹائپ 2 ذیابیطس کو روکا یا کافی حد تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جن کے خاندان میں اس بیماری کی تاریخ موجود ہو یا جن کے پیٹ کے گرد چربی زیادہ ہو۔

Scroll to Top