بالی ووڈ میں کام کرنیوالی مراکشی نژاد کینیڈین اداکارہ، گلوکارہ و رقاصہ نورا فتحی کی قانونی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ سوکیش چندراشیکھر کیس میں وہ ملزمہ نہیں اور نہ ہی ان پر کسی جرم کے ارتکاب یا اس میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب 2 نومبر کو دہلی کی اکنامک آفینس ونگ عدالت سے متعلق مقدمے کی سماعت مقرر تھی، جس میں انھیں بطور گواہ طلب کیا گیا تھا۔
منگل کو جاری بیان میں ان کی قانونی ٹیم نے کہا کہ سوکیش چندراشیکھر سے متعلق ای او ڈبلیو کا مقدمہ آج دہلی کی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر تھا، جہاں نورا فتحی کو بطور گواہ طلب کیا گیا۔
ان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بہت مختصر نوٹس پر سمن موصول ہوئے تھے اور وہ پہلے سے طے شدہ پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر تھیں۔
بیان کے مطابق نورا فتحی کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کے لیے درخواست دائر کی گئی، جس کے بعد مقدمے کی سماعت 6 نومبر 2026 تک ملتوی کر دی گئی اور ان کی پیشی کے لیے نئے سمن جاری کیے گئے۔
یہ مقدمہ ان الزامات سے متعلق ہے جس میں سوکیش چندراشیکھر نے دہلی کی روہنی جیل میں قید کے دوران خود کو اعلیٰ سرکاری افسر ظاہر کرکے تقریباً 200 کروڑ روپے بھتہ وصول کیا۔
دہلی پولیس کے اقتصادی کرائم ونگ نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے تحت چالان جمع کرایا۔ سوکیش چندراشیکھر پر فراڈ، جعلسازی، بھتہ خوری اور منی لانڈرنگ سے متعلق 30 سے زائد فوجداری مقدمات ہیں اور وہ جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔
نورا فتحی سے اس سے قبل بھی سوکیش چندرا شیکھر اور اس کی اہلیہ لینا ماریا پالوس کے ساتھ تعلق کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی اور سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد ضمنی چالان میں انہیں استغاثہ کے گواہ کے طور پر نامزد کیا گیا۔
نورا نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ سوکیش کے ساتھ ان کی بات چیت اس کی اہلیہ کے ذریعے ہوتی تھی۔





