پاکستان ہاکی کا بگڑا ہوا نظام درست کرنے کیلئے وقت درکار ہے، محی الدین وانی

پاکستان ہاکی کا بگڑا ہوا نظام درست کرنے کیلئے وقت درکار ہے، محی الدین وانی

پاکستان ہاکی کا بگڑا ہوا نظام درست کرنے کیلئے وقت درکار ہے، محی الدین وانی

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے کہا کہ کہ پاکستان ہاکی کا بگڑا ہوا نظام درست کرنے کیلئے وقت درکار ہے، کئی دہائیوں سے قومی ہاکی درگرگوں کا شکار ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر ذمہ داری سنبھالی ہے کوشش ہے کہ تمام فریقین کو بیٹھا کر پاکستان ہاکی کی بہتری کیلئے کام کیا جائے، اس کیلئےہاکی منتظمین، کھلاڑیوں اور اس ہاکی لورز سب کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 

اس بات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اپنےدفتر میں نمائندہ جنگ سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔ 

محی الدین وانی کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان کھیلوں میں نمایاں مقام رکھتا تھا یہ حقیقت ہے کہ اس وقت کھیلوں کے حوالے سے ہم کافی پیچھے ہوگئے ہیں مجھے جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں انہیں احسن طریقے سے ادا کروں گا۔ 

انہوں نے کہا کہ ایشین گیمز میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنےوالے نام نہاد ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے، پاکستان سے غیر معروف افراد کو کھیلوں کے نام پر غیرممالک کا جوائے ٹرپ کرانے، پانچ سے زائد کھیلوں کی تنظیمیں چلانے والے نوشاد احمد کے حوالے سے دیے گئے لیٹر پر سیکرٹری آئی پی سی نے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ 

انہیں بتایا گیا کہ عالمی اور ایشیائی مقابلوں میں شرکت محض رسمی کارروائی اور سیر سپاٹے سے زیادہ کچھ نہیں، ایک کھیل میں باپ بیٹی کی کھلاڑی اور آفیشل کے طور پر شرکت، عمر رسیدہ کھلاڑیوں کی شمولیت اور ایک فیڈریشن کے عہدے دار کا بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونا اس کی واضح مثالیں ہیں۔

محی الدین وانی نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے۔
محی الدین وانی نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے۔

محی الدین وانی نے کہا کہ ایک زمانہ تھا پاکستان کے پاس پانچ پانچ ٹائٹل تھے، اس بات کو بھی 30 سال ہو گئے تو اب آگے کی طرف چلنا چاہیے، وہ گلوری 1994 کے بعد تو نہیں رہی، اس کے بعد ہماری ہاکی کے کئی دفعہ تجزیہ ہوچکے ہیں کہ آپ نے انویسٹمنٹ نہیں کیا اسپورٹس میں انفرااسٹرکچر میں، پورے پاکستان میں اس کو پھیلانے میں، پھر جو نئی اسکلز آئی تھی دنیابھر میں اب اسکلز سے زیادہ فٹنس پرتوجہ ہو گئی ہے ،ہمارے ملک میں آپ نے بچوں کی فٹنس پر توجہ نہیں دی، تیسری بات یہ تھی کہ اب فٹنس کے علاوہ ڈائٹ جس پر زیادہ فوکس کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کیلئے بڑی ضروری ہے، نئے رولز آگئے ہیں، اس کی تشریح ہو رہی ہے ،نئی ٹیکنالوجی آگئی ہے، کمپیوٹرز آگئے ہیں، انالسٹ آگئے، ویڈیو انالیسز آگیا، یہ ساری چیزیں ضروری تھی۔ یورپینز نے یہ سب چیزیں ایڈاپٹ کر لیں، ہم پیچھے رہ گئے لیکن ہم مایوس نہیں ہیں اللہ تعالی کرے بہتری آئے، لیکن ایک اور بات ہے کہ آپ جیتنے کو ہی کھیل کیوں سمجھتے ہیں، کھیل کو کھیل کے طور پر لیں۔

صدر پی ایچ ایف نے کہا کہ بیلجیم، ہالینڈ اور دیگر ممالک نے ہاکی پر بہت زیادہ انویسٹ کیا ہے۔ جرمنی، آسٹریلیا، ارجنٹائن بہت آگے ہیں، پاکستان میں گراس روٹ لیول پر اسکولوں اور کالجز کو فوکس کیا جارہا ہے، مختلف ایج گروپس کیلئے غیرملکی کوچز لگائے ہیں تاکہ عالمی ہاکی سے ہمارے کھلاڑیوں کو آگاہی حاصل ہو، قومی اور صوبائی ٹورنامنٹ کرائیں گے، پاکستان ہاکی کے الیکشن کراکے منتخب لوگوں کو ذمہ داریاں دے دیں گے،

Scroll to Top