خون کی کمی میں مبتلا معمر افراد میں ڈیمنشیا (دماغی کمزوری اور یاداشت کھونے کی بیماری) لاحق ہونے کا خطرہ 66 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ڈیمنشیا ایک ذہنی تنزلی کی بیماری ہے جس سے دماغی صلاحیتوں میں کمی واقعہ ہوتی ہے۔ یہ دماغ کے بافتوں میں بیٹا امائلائیڈ پروٹینز کے جمع ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
اس کے نتیجے میں خون میں ڈیمنشیا سے متعلق پروٹینز، جیسے فاسفوریلیٹڈ ٹاؤ 207 پروٹین اور گلیئل فائبرلری ایسڈک پروٹین، کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے خون کے ٹیسٹ کے ذریعے ممکنہ طور پر اس بیماری کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔
تقریباً 10 فیصد معمر افراد خون کی کمی مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مفروضہ پیش کیا گیا ہے کہ مسلسل خون کی کمی دماغ کے سکڑنے، سفید مادے میں تبدیلیوں اور بالآخر ڈیمنشیا کا سبب بن سکتی ہے۔
سوئیڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیقی ٹیم جو طب کے نوبل انعام کا فیصلہ کرتی ہے اس نے حال ہی میں ڈیمنشیا کے کیسز پر خون کی کمی کے اثرات کا جائزہ لیا اور اپنے نتائج جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع کیے۔
اس تحقیق میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 2,282 سوئیڈش افراد شامل تھے۔ محققین نے ہیموگلوبین کی سطح، جو خون کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے، اور ڈیمنشیا سے وابستہ خون میں موجود پروٹین کے اشاریوں کی پیمائش کی۔ ڈیمنشیا کے واقعات کا پتہ لگانے کے لیے شرکاء کا 16 سال تک جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک خون کی کمی دماغ میں مسلسل آکسیجن کی کمی پیدا کر سکتی ہے، آکسیڈیٹو اسٹریس کو جمع کر سکتی ہے، اعصابی خلیوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے اور دماغی خون کی نالیوں کے افعال کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے باقاعدگی سے طبی معائنہ کی تجویز دی گئی تاکہ خون کی کمی کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔





