آرتھرائٹس یعنی گٹھیا کے مریض اکثر جوڑوں میں درد، سوجن اور اکڑن کے باعث یہ سوچتے ہیں کہ ورزش جاری رکھنی چاہیے یا مکمل آرام کرنا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق گٹھیا کے مریضوں کے لیے ورزش اور آرام دونوں کے درمیان مناسب توازن ضروری ہے کیونکہ طویل عرصے تک جسمانی سرگرمی سے دور رہنے سے جوڑوں کی اکڑن اور پٹھوں کی کمزوری بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گٹھیا کی علامات کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب اور باقاعدہ ورزش اہم کردار ادا کرسکتی ہے، لیکن ورزش کا انتخاب مریض کی جسمانی حالت، علامات اور بیماری کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
ورزش گٹھیا کے مریضوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟
گٹھیا ایک ہی بیماری کا نام نہیں بلکہ کئی ایسی کیفیات کا مجموعہ ہے جو جوڑوں کو متاثر کرتی ہیں، جن میں اوسٹیو آرتھرائٹس اور ریمیٹائڈ آرتھرائٹس وغیرہ شامل ہیں۔
مناسب جسمانی سرگرمی جوڑوں کی حرکت بہتر بنانے، ان کے اردگرد موجود پٹھوں کو مضبوط کرنے اور جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی طرح مضبوط پٹھے متاثرہ جوڑوں پر پڑنے والا دباؤ کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔
ورزش وزن کو قابو میں رکھنے، نیند بہتر بنانے اور ذہنی کیفیت پر مثبت اثر ڈالنے میں بھی مددگار ہوسکتی ہے۔
کون سی ورزش بہتر رہتی ہے؟
ماہرین کے مطابق گٹھیا کے مریضوں کے لیے کم جھٹکوں والی اور ہلکی ورزشیں عموماً بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں، جن میں ہموار سطح پر چہل قدمی، سائیکل چلانا، تیراکی، ہلکی اسٹریچنگ اور جوڑوں کی حرکت بہتر بنانے والی ورزش کی اقسام شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کا آغاز کم شدت سے کرنے کے بعد جسم کی برداشت کے مطابق آہستہ آہستہ اس میں اضافہ کرنا چاہیے۔
کیا مکمل آرام نقصان دہ ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق آرام بھی اس مرض کے علاج کا اہم حصّہ ہے، خصوصاً جب جوڑوں میں سوزش یا شدید درد ہو۔ تاہم طویل عرصے تک بیٹھے یا لیٹے رہنے سے پٹھے کمزور ہوسکتے ہیں، جسمانی برداشت گھٹ سکتی ہے اور جوڑوں کی حرکت محدود ہوسکتی ہے۔
اس لیے بہت سے مریضوں کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی اور آرام میں توازن رکھا جائے، دیر تک ایک ہی حالت میں نہ رہا جائے اور اپنی کیفیت کے مطابق وقفے وقفے سے ہلکی حرکت کی جائے۔ البتہ بیماری کی شدت اور علامات کے مطابق آرام اور ورزش کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے۔
کن علامات پر ورزش روک دینی چاہیے؟
ماہرین کے مطابق ورزش شروع کرنے کے بعد معمولی اکڑن یا ہلکی بے آرامی محسوس ہوسکتی ہے، لیکن تیز درد، سوجن میں اضافہ، لنگڑاہٹ یا جوڑ کی حرکت میں نمایاں کمی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کے بعد درد واضح طور پر بڑھ جائے تو اس کی شدت یا دورانیہ کم کرنا اور طبی مشورہ لینا مناسب ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔



