ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ، سابق خاتونِ اوّل بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدوں کے کیس کی سماعت کے دوران وقفہ کر دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سِپرا کی عدالت میں بشریٰ بی بی اپنے وکلاء اور سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ موجود ہیں۔
پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر آ رہے ہیں، وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مصروف ہیں۔
جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ سماعت کا وقت 12 بجے ہے، تفتیشی افسر کا انتظار کر لیتے ہیں۔
بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کی عدالت میں ایک چیز بہت تنگ کرتی ہے، آپ کے اور میرے درمیان ٹیبل پر کمپیوٹر پڑا ہوا ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں دلائل دوں تو آپ میری بات سنیں۔
جج طاہرعباس سِپرا نے کہا کہ مجھے عدالت میں ملزم نظر نہیں آتے۔
بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مشہور کہاوت ہے کہ ملزم تو عدالت کا لاڈلہ ہوتا ہے، جبکہ ملزم اور پراسیکیوشن کو عدالت کا پسندیدہ نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے تھانہ کوہسار کے تفتیشی افسر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا۔
آج ہی سماعت مقرر ہوئی
اس سے قبل آج صبح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدیں جمع کرانے کے کیس کی سماعت آج 12 بجے مقرر کی تھی۔
جج طاہر عباس سِپرا کی عدالت میں پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف پیش ہوئے۔
اس موقع پر وکیلِ صفائی خالد یوسف نے عدالت سے سماعت 12 بجے مقرر کرنے کی استدعا کی۔
جج طاہر عباس سِپرا نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 12 بجے مقرر کر دی۔


