پی ٹی آئی سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں، رانا ثناء

پی ٹی آئی سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں، رانا ثناء
سینیٹر رانا ثنا اللہ(فائل فوٹو)۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں لیکن باضابطہ طور پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہےگا، سب کو آن بورڈ لیا جائے گا، لیکن دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ لڑائی کوئی نہیں بڑھانا چاہتا، لڑائی ہے بھی نہیں، اختلاف رائے ہے، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو اگر گورنر راج سے اختلاف ہے تو وہ اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں، لیکن اختلاف رائے جمہوری رویوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا پراسرار ماحول پایا جاتا ہے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ بات اس طرح ہو رہی ہوتی ہے کہ یہ ہونے والا ہے، وہ ہونے والے ہے جس کو غیر یقینی کہہ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چوہدری سالک حسین نے جو بات کی ان کے لیے یہ بات نامناسب تھی۔

رانا ثناء نے کہا کہ لوگ بات کرتے ہیں کہ فلاں ہو گیا لیکن ان کے پاس ثبوت نہیں ہوتے، خواجہ آصف نے کہا کہ اس قسم کی باتیں لوگ کرتے ہیں تو ان کی خواہشات اور پروگرام ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا اس طرح کی کوشش بھی ہورہی ہے، خواجہ آصف نے جواب دیا کہ خواہشات تو ہوتی ہیں کوشش کوئی کرسکے یا نہ کرسکے یہ الگ چیز ہے، ان باتوں میں عملی طور پر کم اور افواہ سازی زیادہ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا گروپ بنانے والے کا نام لے کر ذکر کروں گا تو ویسی ہی بات ہوگی جیسے چوہدری سالک نے کی، چودھری سالک حسین نے بات کی الماری تو بھری ہوئی ہے مگر ثبوت میرے پاس کوئی نہیں۔

رانا ثنا نے کہا کہ جب تک کوئی سامنے آکر بات نہ کرے تب تک کسی کا نام نہیں لے سکتے، افواہ سازی، پروپیگنڈا ہمیشہ رہا ہے کہ یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے، فیصل واوڈا جو گفتگو کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا مگر وہ بات کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بعض اوقات فیصل واوڈا کی باتوں کا کچھ حصہ یا ملتی جلتی بات سامنے نظر آتی ہے، یہ چیزیں کسی نہ کسی جگہ سے چل رہی ہوتی ہیں، کبھی کوئی چیز ثابت بھی ہوجاتی ہے، وزیراعظم اس لیے ان باتوں پر خاموش ہیں کہ وہ ان میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں۔

اس سوال پر کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کون کر رہا ہے؟ رانا ثنا اللہ نے کہا اس کا جو جواب آپ مجھے سے لینا چاہتے ہیں میں نہیں دوں گا، حکومتی ادارے ہی مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، اگر ایک ادارے کے ذمے ہے کہ تجاوزات ختم کرے تو اس کے مطابق ہے کام کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ بعض حالات میں تجاوزات نظرانداز ہوتی ہیں ایک دفعہ نوٹس لے لیا جاتا ہے، ان چیزوں کو مائنس نہیں کیا جاسکتا، مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر گارڈ کیبن پڑا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا خیبرپختونخوا میں جو صورتحال ہے اس میں ترجیح دہشت گردی ختم کرنا ہے اور ہونی چاہیے، پوری توجہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے پر ہونی چاہیے، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہمارا دہشت گردی ختم کرنے کے سوا کوئی فوکس نہ ہو۔

رانا ثنا اللہ نے کہا مولانا فضل الرحمان کو انگیج کرنا چاہیے وہ جس طرف جا رہے ہیں ان کو روکا جاسکتا ہے، ایک موقف یہ بھی ہے کہ مولانا نے یہ بات کر دی ہے جواب اب بڑھ کر دیا جانا مناسب ہے، مولانا فضل الرحمان کا اپنا نقطہ نظر ضرور ہے مگر ان پر خود دہشت گردوں کے حملے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان بتارہے تھے کہ ان کو بھی بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں، ہماری سوچ ہے کہ کوشش ہو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، مولانا کے خلاف کارروائی کے بارے میں کوئی فارمل میٹنگ نہیں ہوئی، نہ وزیراعظم نے کسی کو کارروائی کا کہا نہ روکا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کی میٹنگز ہوئیں، وزیراعظم مولانا کی قدر اور عزت کرتے ہیں، وزیراعظم نہیں چاہیں گے کہ سیاسی طور پر مولانا فضل الرحمان ہمارے خلاف کھڑے ہوں، وزرا جو باتیں کر رہے ہیں وزیراعظم نے کسی کو منع بھی نہیں کیا لیکن کہا بھی نہیں کہ یہ باتیں کریں۔

Scroll to Top