بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سینئر بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ کی کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے طلبہ کی حمایت کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کی مطابق بی جے پی رہنما راہول سنہا نے الزام عائد کیا ہے کہ اداکار کے بیانات کسی بین الاقوامی سازش سے منسلک ہو سکتے ہیں لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
نصیر الدین شاہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی کے بعد پارٹی پر نظریات سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ستیہ جیت رے فلم انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ بھی اس رویے سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اداکار کا کہنا ہے انتظامیہ سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، ان کی نگرانی کی گئی، انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ہاسٹل خالی کرنے کے لیے بھی کہا گیا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل کے فلم سازوں کو خوف زدہ کرنے یا ان کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نصیر الدین شاہ کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان راہول سنہا نے ان کے مؤقف کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
راہول سنہا نے دعویٰ کیا کہ اداکار کے بیانات کے پیچھے غیر ملکی قوتوں اور اپوزیشن جماعتوں کا کردار ہوسکتا ہے، جن میں کانگریس، ترنمول کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ الزامات تاحال غیر مصدقہ ہیں۔
دوسری جانب ادارے سے وابستہ ذرائع نے بھی نصیر الدین شاہ کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے کیمپس میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ 12 اکتوبر سے وائس چانسلر سنتوش اجمیرا کے دفتر کے باہر دھرنا دے رہے ہیں۔
وہ کیمپس میں تشدد کے واقعات پر انتظامیہ سے جواب طلب کرنے اور وائس چانسلر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق 27 ستمبر کو ایک تقریب کے دوران طلبہ اور ایک تنظیم کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ اور دیگر ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔
انتظامیہ نے طلبہ کے احتجاج اور بدانتظامی کے الزامات کے تناظر میں 6 طلبہ کو ایک سال کے لیے ادارے سے خارج کر دیا، جب کہ تعلیمی سرگرمیاں 13 نومبر تک معطل کر دی گئیں۔
دوسری جانب، احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف ہے کہ کیمپس میں پیش آنے والے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
فلم ساز پائل کپاڈیا نے بھی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔



