ماہرین نے روزمرہ استعمال کی جانے والی بعض غذاؤں کو فریج میں رکھنے سے منع کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض غذائیں کم درجۂ حرارت پر فائدے کے بجائے نقصان پہنچا سکتی ہیں، کم درجۂ حرارت ان کی ساخت تبدیل، ذائقہ متاثر اور بعض صورتوں میں انہیں زیادہ تیزی سے خراب کرنے کا سبب بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل غذاؤں کو عموماً فریج سے باہر رکھنا بہتر ہے۔
ٹماٹر اپنا بہترین ذائقہ کھو دیتے ہیں
کم درجۂ حرارت پر ٹماٹر کی ساخت متاثر ہوتی ہے، جس سے وہ نرم اور بد ذائقہ ہو سکتے ہیں اور اپنی قدرتی مٹھاس اور خوشبو کھو دیتے ہیں۔
ٹماٹروں کو براہِ راست دھوپ سے دور کمرے کے درجۂ حرارت پر رکھیں، انہیں کاٹنے کے بعد ہی فریج میں رکھیں۔
آلو دانے دار اور میٹھے ہو جاتے ہیں
فریج کا کم درجۂ حرارت آلو کے نشاستے کو شکر میں تبدیل کر دیتا ہے، نتیجتاً پکے ہوئے آلو غیر معمولی حد تک میٹھے اور قدرے دانے دار محسوس ہو سکتے ہیں۔
آلوؤں کو ٹھنڈی، تاریک اور خشک جگہ پر مناسب ہوا کے گزر کے ساتھ رکھیں، مثلاً باورچی خانے کی ٹوکری یا کاغذی تھیلے میں، انہیں پیاز سے الگ رکھنا بہتر ہے۔
پیاز اور لہسن خشک ماحول میں بہتر رہتے ہیں
فریج میں موجود نمی مکمل پیاز کو نرم کرنے اور ان پر پھپھوند لگنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، لہسن میں کونپلیں نکل سکتی ہیں اور اس کی ساخت ربڑ جیسی ہو سکتی ہے۔
پیاز اور لہسن دونوں کو ٹھنڈی، خشک اور ہوادار جگہ پر رکھنا بہتر ہے، تاہم انہیں چھیلنے یا کاٹنے کے بعد بند ڈبے میں فریج میں منتقل کر دینا چاہیے۔
روٹی جلد باسی ہو جاتی ہے
کم درجۂ حرارت روٹی کے خشک اور سخت ہونے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے، چند دن کے لیے روٹی کو کمرے کے درجۂ حرارت پر بریڈ باکس یا بند تھیلے میں رکھیں، اگر اسے زیادہ عرصے تک محفوظ کرنا ہو تو فریج میں رکھنے کے بجائے اسے فریز کرنا بہتر ہے۔
کیلے اور کافی بھی متاثر ہوتے ہیں
کم درجۂ حرارت کیلے کے چھلکے کو سیاہ کر دیتا ہے اور اندر موجود پھل نرم پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح کافی کے دانے اور پسی ہوئی کافی فریج میں موجود دیگر اشیاء کی خوشبو اور نمی جذب کر سکتی ہیں، جس سے اس کا ذائقہ متاثر ہوتا ہے، کافی کو بھی خشک جگہ پر، کمرے کے درجۂ حرارت پر رکھنا بہتر ہے۔
غذاؤں کو درست جگہ پر رکھنے کی یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں فریج میں جگہ بھی خالی کرتی ہیں اور ذائقے کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
ساسز اور دیگر کھولی گئی اشیاء کے لیے ان کے لیبل پر درج ہدایات ضرور دیکھیں، تاہم مذکورہ غذاؤں کے لیے عموماً کمرے کا درجۂ حرارت زیادہ موزوں ہوتا ہے۔



