وبائی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے آنے والی امدادی ادویات اور کٹس کے لیے ایک بھی ویئر ہاؤس نہیں ہے۔
اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے وزارتِ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے لیے خریدی گئی ادویات کے لیے بھی مخصوص ویئر ہاؤس موجود نہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے پارکنگ ایریاز کو عارضی کمروں کی شکل دے کر ویئر ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یو این ایف پی اے نے ایمرجنسی ابسٹیٹرک اینڈ نیوبارن کیئر اور فیملی پلاننگ کی 742 کٹس دی ہیں، کٹس کو رکھنے کے لیے پریشانی کا سامنا ہے۔
ذرائع وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ پرائم منسٹر ہیپاٹائٹس سی ایلمینیشن پروگرام کی 16 لاکھ مریضوں کے لیے ادویات منگوا لی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ 2023ء میں کمرے تیار کر کے ریکس بنوائے تاکہ عارضی طور پر ادویات رکھی جائیں۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر راشدہ نے کہا ہے کہ ادویات ان جگہوں پر خراب نہیں ہوتیں البتہ مخصوص ویئر ہاؤس کے لیے ڈیولپمنٹ پارٹنرز کو خط لکھے ہیں۔




