چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران 300 سے زائد ایم او یوز اور تین درجن سے زائد جوائنٹ وینچر معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جن کی مجموعی مالیت 13ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں پیر کے روز چین کے آئی بی آئی گروپ کے 70 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ ایم او یوز طویل المدتی تعاون کی جانب ابتدائی قدم ہوتے ہیں تاہم حکومتِ پاکستان نے ان پر مؤثر عملدرآمد اور انہیں عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنے کیلئے ایک جامع نظام قائم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ایم او یوز کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کرنے کی شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو حکومتی فالو اپ اور عملدرآمد کے مؤثر نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
اس موقع پر کراچی چیمبر اور آئی بی آئی گروپ کے درمیان ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی ترقی کے فروغ کیلئے اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف اور آئی بی آئی گروپ کی ڈائریکٹر لیو جون ژائی نے دستخط بھی کیے۔ خلیل ہاشمی نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت دنیا کی بڑی بیٹری ساز کمپنی سی اے ٹی ایل کے ساتھ فعال مذاکرات کر رہا ہے جو لیتھیئم آئن اور سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کمپنی کو ملک میں سرمایہ کاری اور تعاون پر آمادہ کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ وزیراعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی بتدریج لیتھیئم آئن بیٹریوں سے سوڈیم بیسڈ بیٹری ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہی ہے جبکہ پاکستان کے پاس اس صنعت کیلئے درکار خام مال وافر مقدار میں موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے میں فرسٹ موور ایڈوانٹیج حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور جدید بیٹری مینوفیکچرنگ اور نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے حصول کیلئے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
قبل ازیں چین کے صنعتی، تجارتی اور سرمایہ کاروں کے 50 سے زائد اراکین پر مشتمل اعلیٰ سطح کے وفد نے گزشتہ روز فیڈریشن ہاؤس کراچی کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ اہم بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتیں منعقد ہوئیں۔ وفد کے ہمراہ چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی بھی موجود تھے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے مطابق چینی وفد میں معدنیات، ٹیکسٹائل، کیمیکلز، قابلِ تجدید توانائی، آٹوموبائل، آئی ٹی، فوڈ انڈسٹری، مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں کے نمائندے شامل تھے، جبکہ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ چین کو برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان کو ویلیو ایڈڈ اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی تیاری پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، کیمیکلز اور آئی ٹی کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے چینی تجارتی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو فروغ ملے گا۔
ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین سندھ و نائب صدر عبدالمہیمن خان نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان آنے والا یہ سب سے بڑا اور اہم چینی تجارتی، صنعتی اور سرمایہ کاری وفد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجر اور کمپنیاں چینی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
عبدالمہیمن خان نے مقامی تاجروں کو دعوت دی کہ وہ چینی وفد کے ساتھ ملاقاتوں میں نئے تجارتی راستے اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات کو پرائیویٹ سیکٹر تک توسیع دے کر اقتصادی تعاون میں ڈھالنا پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان-چائنا بزنس کونسل ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین شبیر منشاء نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ٹریڈ پروموشن اور بی ٹو بی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے۔



