امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، معاہدہ آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے کہ ایران کے معاملے کو حل کرلیا جائے گا،ایران 47 سال سے خطرہ تھا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اگر ڈیل ہوئی تو خطے اور ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔
صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی فوجی ایران میں داخل ہوں گے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہم حکمت عملی پر بات نہیں کرتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ایران کے قابل احترام لیڈر سے بات ہوئی ہے، نہیں جانتا، نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں؟ مجتبی خامنہ ای کے بارے میں کچھ نہیں سنا، نہیں چاہتا کہ مجتبی خامنہ ای کو قتل کیا جائے۔



