بادام ڈیمنشیا سے محفوظ رکھنے کیساتھ آنتوں کیلئے بھی انتہائی مفید ہے، ماہرین

بادام ڈیمنشیا سے محفوظ رکھنے کیساتھ آنتوں کیلئے بھی انتہائی مفید ہے، ماہرین

ایک وقت تھا جب بادام کو صرف خرگوش کی خوراک سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور اسے کھانا بھی پسند نہیں کرتے تھے، لیکن اب یہ سپر فوڈ کے طور پر سامنے آیا ہے اور اسے ڈیمنشیا (بھولنے کی بیماری) سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر اول دستے کے طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔

اسے خالی یا پھر  مکھن اور دودھ کے ساتھ شامل کرکے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک طویل عرصے تک بادام کو زیادہ کیلوریز کی وجہ سے ڈائٹنگ سے جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن اب ماہرین غذا کا کہنا ہے کہ یہ تاثر گمراہ کن ہے۔ یہ ڈیمنشیا کے علاوہ آنتوں کی صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ 

ماہرین کے مطابق بادام میں اومیگا 6، مونو ان سیچوریٹڈ چکنائیاں (ایسی صحت بخش چکنائیاں جو کمرے کے درجہ حرارت میں پگھل جائے)، فائبر، وٹامن ای اور پولی فینولز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ یہ وہ غذائی اجزاء ہیں جو خون کی نالیوں کی صحت بہتر بنانے، دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور دماغی صحت کو بہتر رکھنے سے منسلک ہوتے ہیں۔

بادام کی اصل طاقت یہی ہے، کیونکہ خون کی نالیوں کی بہتر صحت کو ڈیمنشیا کے امکانات کم کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔

کنگز کالج لندن کے ادارے زوئے میں چیف سائنٹسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر پروفیسر سارہ بیری نے کہا کہ بادام غذائیت کا ایک خزانہ ہیں۔ یہ دل کے لیے مفید چکنائیوں، فائبر اور بایوایکٹو مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کے افعال اور آنتوں کے مائیکرو بائیوم کو معاونت فراہم کرتے ہیں، یہ دونوں عوامل دماغی صحت اور ڈیمنشیا کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہوتے ہیں۔

یہ پولی فینولز سے بھرپور ہوتے ہیں، جو بایو ایکٹو اجزاء ہیں اور سوزش کو کم کرنے والے راستوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں ایک خاص امائنو ایسڈ بھی ہوتا ہے جسے آرگینائن کہا جاتا ہے، جو نائٹرک آکسائیڈ کا پیش خیمہ ہے۔ نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو صحت مند رکھتا ہے اور انہیں پھیلنے میں مدد دیتا ہے۔

ایک تحقیق میں برطانیہ اور امریکا کے 160,000 سے زائد بالغ افراد کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا جو زوئے پریڈکٹ تھری میں شریک تھے۔ اس میں یہ واضح رجحان سامنے آیا کہ جو لوگ روزانہ بادام کھاتے تھے، ان میں ڈیمنشیا، پارکنسنز، فالج، ملٹی پل اسکلروسس (ٹشوز میں کثافت بڑھنے سے ہونیوالی سختی) اور مرگی جیسی بیماریوں کی رپورٹنگ بہت کم تھی۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Scroll to Top