کیا ہارمون تھراپی جلد شروع کرنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟

کیا ہارمون تھراپی جلد شروع کرنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟
—فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی (HRT) جسے ماضی میں ڈیمنشیا کے ممکنہ خطرے سے جوڑا جاتا رہا ہے، اگر مناسب وقت پر شروع کی جائے تو دماغی صحت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق سے سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ہارمون تھراپی شروع کرنے کا وقت پوسٹ مینو پوزل سے گزرنے والی خواتین کے لیے اس کے اثرات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ایک مخصوص موقع کے دوران ایسٹروجن کی سطح بحال کرنے سے عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم زندگی کے نسبتاً بعد کے مرحلے میں ہارمون تھراپی شروع کرنے سے وہی فوائد حاصل نہ ہوں تو بعض صورتوں میں منفی اثرات کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

تحقیق نے ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی سے متعلق ماضی کے خدشات کو بھی چیلنج کیا ہے، سابقہ مطالعات کے بعد ہارمون تھراپی کے ممکنہ طور پر ڈیمنشیا اور دیگر طبی خطرات سے تعلق کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا تھا۔

تازہ تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ عمر، ہارمون تھراپی شروع کرنے کا وقت، ہارمون کی قسم اور فرد کی صحت جیسے عوامل علاج کے اثرات پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایریزونا یونیورسٹی کی نیورو سائنس دان روبرٹا برنٹن کے مطابق پوسٹ مینو پاز کے ابتدائی مرحلے میں مداخلت دماغی صحت کو بہتر بنانے اور برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ بہت بعد میں شروع کی جانے والی مداخلت ایسا فائدہ نہیں دیتی۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے وابستہ ڈاکٹر ہارورڈ ہوڈس کے مطابق شواہد تیزی سے اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ہارمون تھراپی کے اثرات میں وقت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کے مطابق جلد علاج شروع کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے، جبکہ دیر سے شروع کرنے پر شاید کوئی خاص اثر نہ ہو اور ممکنہ طور پر نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نتائج حوصلہ افزاء ہونے کے باوجود ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی ہر خاتون کے لیے موزوں نہیں اور اسے ڈیمنشیا سے بچاؤ کا عمومی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

ہارمون تھراپی پر غور کرنے والی خواتین کو علاج شروع کرنے سے قبل کسی مستند طبی ماہر سے اس کے ممکنہ فوائد اور خطرات پر مشورہ کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Scroll to Top