اس ماہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے ذریعے بنائی جانے والی ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی جا چکی ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق دنیا کی کئی بڑی مشہور و معروف شخصیات کی جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ہیں۔
رواں ماہ معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی جعلی تصاویر فحش ویب سائٹس پر سامنے آئی تھیں جس پر انہوں نے اور ان کے مداحوں نے سخت ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ٹیلر سوئفٹ ان تصاویر کو استعمال اور پھیلانے کے معاملے پر ڈیپ فیک فحش ویب سائٹس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اب اسی دوران امریکا کے صدر جوبائیڈن کی جعلی فون کال جبکہ بچوں اور نوجوانوں کی لاشوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر نے اس حوالے سے جمعہ کے روز کہا کہ ہم جھوٹی تصاویر سے پریشان ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کو استعمال کر کے بنائی گئی جعلی اور گمراہ کن آڈیوز اور ویڈیوز نئی نہیں کیونکہ ( AI) ٹیکنالوجی میں حالیہ پیشرفت نے انہیں بنانا آسان اور ان کا پتہ لگانا مشکل بنا دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق نئے سال کے پہلے ہی ماہ میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی مشہور شخصیات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جس کے بعد ان ممالک کے حکام اور شہریوں میں ٹیکنالوجی کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔



