بلوچستان کے ضلع مستونگ میں الفلاح روڈ پر دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہو گئے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس میں زخمی ہوئے متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔
ڈی ایس پی مستونگ بھی دھماکے میں جاں بحق
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مستونگ میں ہوئے دھماکے میں جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی مستونگ بھی شامل ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کا کہنا ہے کہ دھماکا مدینہ مسجد کے قریب ہوا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
نگراں صوبائی وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ مستونگ اور کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ پولیس، پی ڈی ایم اے اور دیگر ایمرجنسی اداروں کی ٹیمیں دھماکے کے مقام پر موجود ہیں۔
جان اچکزئی نے کہا ہے کہ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے کراچی کے اسپتالوں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے، ضرورت پڑی تو شدید زخمیوں کی فوری کراچی منتقلی کا انتظام کیا جائے، صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔
جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی آشیر باد سے دشمن بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔
’دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں‘
نگراں وفاقی وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کی مذمت
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے دھماکے میں ڈی ایس پی سمیت قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس اور جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کی مذمت
نگراں وزیرِ اعلیٰ سندھ مقبول باقر نے مستونگ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔
گزشتہ دھماکے میں حافظ حمد زخمی ہوئے تھے
یاد رہے کہ رواں ماہ بھی مستونگ میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمد اللّٰہ سمیت 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔




