بھارتی گلوکار سونو نگم نے دعویٰ کیا ہے کہ گلوکاروں کے رائلٹی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بعد بھارت کی دو بڑی میوزک کمپنیاں ٹی سیریز اور زی میوزک نے میرے ساتھ کام کرنا بند کر دیا تھا۔
سونو نگم نے یہ انکشاف ایک انٹرویو کے دوران کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب میں نے کاپی رائٹ کی ملکیت اور فنکاروں کے حقوق سے متعلق عوامی سطح پر سوالات اٹھائے تو دونوں میوزک لیبلز نے مجھ سے فاصلہ اختیار کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کاپی رائٹ کا مسئلہ اٹھایا تو ٹی سیریز نے مجھ پر پابندی لگا دی، زی میوزک نے بھی میرے ساتھ کام کرنا بند کر دیا۔
گلوکار کا کہنا کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک ایکٹیوسٹ بن گیا ہے، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ پر پابندی لگ جائے گی، مجھے یقین تھا کہ آخرکار یہ مسئلہ حل ہو جائے گا، لیکن حالات مزید خراب ہوتے گئے۔
سونو نگم کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے اثرات میرے گانوں کی مقبولیت پر بھی پڑے، میرے گانوں کی تشہیر کم کی گئی اور انہیں عوامی مقامات پر بھی پہلے کی نسبت کم چلایا گیا، تاہم پیشہ ورانہ مشکلات کے باوجود میں نے اپنی توجہ لائیو پرفارمنسز پر مرکوز رکھی۔
انہوں نے کہا کہ میرا وقت آیا، پھر گزر گیا اور اب دوبارہ واپس آ گیا ہے، یہ سب وقت کی بات ہوتی ہے۔
فنکاروں کے حقوق کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے سونو نگم نے کہا کہ اب موسیقی کی صنعت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج حالات بدل چکے ہیں، وہی میوزک لیبلز اب گلوکاروں کو رائلٹی ادا کر رہے ہیں، اب ہم محبت سے ملتے ہیں، ساتھ بیٹھتے ہیں اور کھانا بھی کھاتے ہیں، کسی نہ کسی کو تو یہ پہل کرنا تھی۔





