سپریم جوڈیشل کونسل نے مستعفی جج مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات پر کارروائی کے دوران ان کے بیٹوں کو بطور گواہ سمن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کونسل نے اٹارنی جنرل کو مظاہر نقوی کے بیٹوں کی حد تک نوٹسز واپس لینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کا اوپن اجلاس چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوا۔
کارروائی کے دوران مستعفی جج مظاہر نقوی کو سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق 4 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
نویں گواہ ظفر اقبال کا حلفیہ بیان
سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف نویں گواہ ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاؤسنگ سوسائٹی ظفر اقبال نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے حلفیہ بیان دیا ہے۔
حلفیہ بیان میں گواہ ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ مظاہر نقوی نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں 2 پلاٹ اور 1 اپارٹمنٹ لیا، انہوں نے2017ء میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائزہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ لیا، مظاہر نقوی کی طرف سے اب تک 60 لاکھ روپے میں سے 30 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔
چیئرمین سپریم جوڈیشن کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی نے ایک شخص کو 2 پلاٹس کیسے دیے؟
نویں گواہ ظفر اقبال نے جواب دیا کہ ایک پلاٹ ہم نے، دوسرا ہمارے پارٹنر سپریم کورٹ بار نے مظاہر نقوی کو دیا، سپریم کورٹ بار نے بذریعہ قرار داد بتایا کہ ان کے دیے گئے پلاٹس پر سرکاری قواعد لاگو نہیں ہوں گے، دوسرے پلاٹ کی مظاہر نقوی نے جو رقم دی اس کا ریکارڈ سپریم کورٹ بار کے پاس ہے۔
حلفیہ بیان میں نویں گواہ ظفر اقبال نے کہا کہ مظاہر نقوی نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک اپارٹمنٹ لیا، 7 اگست 2020ء کو خریدے گئے اس اپارٹمنٹ کی قیمت 99 لاکھ روپے ہے، جس میں سے 12 لاکھ روپے دیے گئے، مظاہر نقوی کا تیسرا پلاٹ سپریم کورٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی جی 17 میں ہے، سپریم کورٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹ کی تفصیلات ہمیں معلوم نہیں۔
’’لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہم ٹیکس کے پیسے سے یہ کارروائی کرتے ہیں‘‘
دورانِ سماعت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہم ٹیکس کے پیسے سے یہ کارروائی کرتے ہیں جہاں کونسل کی کارروائی کے لیے 2 ججز دوسرے صوبوں سے آتے ہیں، ادراک ہے کہ سپریم کورٹ کے بینچز میں یہ معاملہ زیرِ التواء ہے، سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کارروائی پر کوئی اسٹے نہیں دے رکھا، یہ معاملہ اگر لٹکا رہتا تو ہم پر تنقید ہوتی کہ کارروائی ختم کیوں نہیں کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ دیگر ججز کے خلاف بھی شکایات ہیں، ان کو اِن کیمرا اجلاس میں دیکھا جائے گا، موجودہ کارروائی جج کی درخواست پر اوپن ہوئی، مظاہر نقوی کو معلوم ہو گا کہ یہاں کیا کارروائی ہو رہی ہے، مظاہر نقوی کسی گواہ پر جرح کرنا چاہیں یا جواب دینا ہے تو آ سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کونسل نے مزید کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔


