وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے سرکاری یونیورسٹی میں خاتون افسر کی جانب سے مرد رجسٹرار کو ہراساں کرنا ثابت ہونے پر تنزلی کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
اعلامیے کے مطابق خاتون افسر نے من پسند عہدے پر تقرری نہ ملنے کی وجہ سے یہ سب کچھ کیا، خاتون افسر نے مرد رجسٹرار کے ساتھ سیلفی بنانے کی خواہش ظاہر کی۔
شکایت کنندہ نے بتایا کہ اہم عہدے کی بھرتی ان کا اختیار نہیں تو ملزمہ کا رویہ بدل گیا، خاتون نے دھمکی دی کہ انہیں من پسند عہدہ نہ ملا تو وہ ویڈیوز جاری کردیں گی، خاتون نے کہا وہ شکایت کنندہ کے خلاف ہراسانی کی شکایت درج کروادیں گی۔
وفاقی محتسب انسداد ہراسیت کے فیصلے کے مطابق اس وقت مرد رجسٹرار نے ایک اہلکار کو کمرے میں موجود رکھا ہوا تھا، ملزمہ بار بار اُس اہلکار کو باہر بھیجنے پر اصرار کرتی رہیں، خطرہ بھانپتے ہوئے شکایت کنندہ نے چپکے سے گفتگو ریکارڈ کرلی، ریکارڈنگ سنائی گئی تو ملزمہ نے غلطی مان لی اور دوبار معذرت نامے جمع کروائے۔
یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے خاتون کو قصور وار قرار دے کر سخت سزا سنائی، کمیٹی نے تنزلی، تین سال ترقی پر پابندی اور انتظامی عہدے پر تقرری سے محرومی کا فیصلہ سنایا، ملزمہ نے اس سزا کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت میں اپیل دائر کی۔
وفاقی محتسب نے ترقی اور تقرری پر تا حیات پابندیاں ختم کردی، تنزلی کی بنیادی سزا برقرار رکھی اور فیصلے میں کہا کہ ہراسیت کا قانون صرف ’’جنسی‘‘ نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں، دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔



