ایک تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے خشک میوہ جات بھوک اور کھانے کی طلب کو کم کرنے کے لیے ایک پسندیدہ ہلکی پھلکی اسنیک ہوتی ہے۔
برطانیہ اور ناروے کے محققین نے آٹھ طویل مدتی مطالعات میں شامل تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔
اس تحقیق میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ روزانہ خشک میوہ جات کی ایک مقدار یعنی تقریباً ایک ہتھیلی میں سما سکے، کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص کا خطرہ کس حد تک متاثر ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق روزانہ 30 گرام خشک میوہ جات کھانے والے افراد میں ان لوگوں کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 26 فیصد کم تھا جو خشک میوہ نہیں کھاتے تھے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ خشک میوہ جات کی ہر 28 گرام اضافی مقدار کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
تاہم تحقیق میں یہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ آیا خشک میوہ جات پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کا بلڈ پریشر کم کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحت بخش غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند وزن برقرار رکھنے سے بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
خشک میوہ جات بحیرہ روم کی ڈائٹ اور ہائی بلڈ پریشر کو روکنے کے لیے غذائی طریقہ کار کا اہم حصہ ہیں۔ ان دونوں صحت بخش غذائی طریقوں کو کم بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح سے منسلک کیا گیا ہے۔
تحقیق میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شرکا کس قسم کے خشک میوہ جات کھاتے تھے۔ تاہم سابقہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ بادام، کاجو، اخروٹ اور مونگ پھلی سمیت دیگر خشک میوہ جات کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کے کم خطرے سے منسلک ہے۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خشک میوہ جات نمکین تھے یا بغیر نمک کے۔ ڈاکٹروں کے مطابق نمک کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
نئی تحقیق کے ماہرین کے مطابق اس کے فوائد کی ایک وجہ خشک میوہ جات میں موجود ایل آرجینین ہو سکتا ہے۔ جسم اس جزو کو نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں استعمال کرتا ہے، جو خون کی نالیوں کو آرام دینے اور پھیلانے میں مدد دیتا ہے۔
خشک میوہ جات میں موجود فائبر کو آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا ایسے اجزا میں تبدیل کر سکتے ہیں جن کا تعلق بلڈ پریشر کی کم سطح سے ہے۔ اس کے علاوہ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس سوزش کو کم کرتے ہیں، جبکہ سوزش بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والے اس نئے میٹا اینالیسس میں محققین نے آٹھ مطالعات کا جائزہ لیا، جن میں مجموعی طور پر 143,380 افراد شامل تھے۔ ان میں سے 20,665 افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی تھی۔ شرکاء کی عمریں 18 سے 87 سال کے درمیان تھیں۔
یہ تحقیق اس بات کا ثبوت نہیں کہ صرف خشک میوہ جات کھانے سے بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے یا یہ ادویات کا متبادل ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق انہیں غذا میں شامل کرنے سے پہلے سے جاری علاج کے فوائد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے مشورہ دیا کہ بغیر نمک کے مختلف خشک میوہ جات کا انتخاب کیا جائے اور انہیں آلو کے چپس کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے۔



