طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت کے تحت پہلی بار 2 ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس نے زندہ سور پر کامیاب سرجری انجام دی، جسے مستقبل میں صحت کی سہولتوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں 8 جولائی کو شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ تجربہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے انجینیئرز اور سرجنز نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
رپورٹ کے مطابق روبوٹس نے لیپرواسکوپک کولی سسٹیکٹومی (پتہ نکالنے کی سرجری) کامیابی سے انجام دی، جس میں بافتوں (ٹشوز) کو ہٹانا، کٹ لگانا، کلپس لگانا اور جگر کے نیچے سے پتہ نکالنے جیسے مراحل شامل تھے۔
تحقیق کے دوران ایک سرجری میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے سرجن کی معاونت سے کام کیا، جبکہ دوسری سرجری مکمل طور پر دو ہیومنائیڈ روبوٹس نے انجام دی۔
محققین کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا انسان نما روبوٹس ایسے حالات میں طبی خدمات فراہم کر سکتے ہیں جہاں ڈاکٹر فوری طور پر موجود نہ ہوں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کے سینٹر فار دی فیوچر آف سرجری کے عبوری ڈائریکٹر ڈاکٹر ریان بروڈرک نے کہا ہے کہ بطور پروف آف کانسیپٹ یہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔
تحقیقی ٹیم نے روبوٹس کو سرجیکل آلات پکڑنے کے لیے خصوصی اڈاپٹرز اور ایسا سافٹ ویئر تیار کیا، جس کی مدد سے سرجن کے ہاتھوں کی حرکات روبوٹ کے بازوؤں تک درست انداز میں منتقل کی جا سکیں۔
محققین نے ان روبوٹس کو سرجی (Surgie) کا نام دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں یہ روبوٹس صرف آپریشن تھیٹر ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی طبی سہولتوں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں استعمال ہونے والے روبوٹس کوئی خصوصی طور پر تیار کردہ مشینیں نہیں تھیں، بلکہ مارکیٹ میں دستیاب یونی ٹری G1 ہیومنائیڈ روبوٹس تھے، جن کی قیمت 20 ہزار امریکی ڈالرز سے کم ہے۔





