دفتر میں مسلسل کام کرنا، گھنٹوں ویڈیو گیمز کھیلنا یا صوفے پر بیٹھ کر ڈرامے اور فلمیں دیکھنا بظاہر بے ضرر عادتیں محسوس ہوتی ہیں، لیکن طویل وقت تک بغیر حرکت کیے ایک جگہ بیٹھنا ٹانگوں میں خون کی روانی سست کر کے خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق مسلسل صوفے یا کرسی پر بیٹھے رہنے سے رگوں میں خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خون کا لوتھڑا اپنی جگہ سے الگ ہو کر پھیپھڑوں تک پہنچ جائے تو یہ خون کی روانی روک سکتا ہے، اس خطرناک کیفیت کو پلمونری ایمبولزم کہا جاتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
کتنی دیر بیٹھے رہنے سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے؟
پنڈلیوں کے پٹھے خون کو ٹانگوں سے واپس دل کی طرف پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں] جب کوئی شخص 7 سے 9 گھنٹے تک ایک ہی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو یہ پٹھے کم متحرک رہتے ہیں، جس سے خون کی واپسی سست پڑ سکتی ہے اور رگوں میں خون جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ماہرینS صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی نوجوان مسلسل 4 سے 6 گھنٹے تک ویڈیو گیمز کھیلتا یا اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر مواد دیکھتا رہے تو اس کی پنڈلیوں کے پٹھے اس دوران خون کی گردش میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتے۔
ماہرین کے مطابق کم عمر ہونا بھی اس خطرے سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں، خصوصاً جب مسلسل ایک جگہ زیادہ دیر بیٹھنے کے ساتھ موٹاپا، تمباکو نوشی، ادویات کا استعمال یا خون جمنے کی سابقہ تاریخ جیسے عوامل بھی موجود ہوں۔
سائنسی جریدے سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہونے والے31 مطالعات پر مشتمل تجزیے میں زیادہ دیر تک ایک جگہ پر بیٹھے رہنے والے افراد کی رگوں میں خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ دیگر لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد زیادہ پایا گیا۔
احتیاطی تدابیر
1- کام کرتے ہوئے یا اسکرین ٹائم کے دوران باقاعدگی سے اٹھ کر چند قدم چلیں۔
2- کھڑے ہوکر ایڑیوں کو آہستہ اوپر اٹھائیں اور پھر نیچے لائیں، توازن کے لیے دیوار یا کرسی کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
3- اگر کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو پاؤں کے پنجوں کو آگے پیچھے حرکت دیں اور ایڑیاں اوپر نیچے اٹھائیں۔
4- کام، سفر یا تفریح کے دوران بیٹھنے کی پوزیشن بدلیں اور جسم کو حرکت دیتے رہیں۔
ماہرین کے مطابق مذکورہ احتیاطی تدابیر جسم کی حرکت میں اضافے کے لیے مفید ہیں، لیکن خون کے لوتھڑے بننے سے بچاؤ کی مکمل ضمانت نہیں دیتیں۔
کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟
ٹانگ میں اچانک سوجن، درد، چھونے پر گرمی یا جلد کی رنگت میں تبدیلی خون کے لوتھڑے کی علامات ہو سکتی ہیں۔
اگر سانس اچانک پھولنے لگے، سینے میں درد ہو یا کھانسی کے ساتھ خون آئے تو یہ ہنگامی علامات ہیں اور فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔





