برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے برطانیہ کے 4 لڑاکا طیارے ٹائفون قطر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
جنگ کی صورت حال کے حوالے سے لندن سے اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اینٹی ڈرونز صلاحیتوں کے حامل وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹر بھی کل قبرص پہنچ جائیں گے۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا جانتا ہوں لوگ خلیجی ممالک میں پھنسے اپنے عزیزوں کے حوالے سے پریشان ہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ کا طویل عرصہ سے موقف ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کے جائیں، برطانیہ اسی لیے ایران پر ابتدائی حملوں کا حصہ نہیں بنا۔
انھوں نے کہا کہ ایران نے خطے کے دیگر ممالک پر حملے شروع کیے تو صورت حال بدل گئی، اپنے لوگوں کے دفاع اور مفادات کے تحفظ کیلئے ایران پر حملے سے پہلے ہی اپنے دفاعی اثاثے خطے میں منتقل کر دیے تھے۔ جنوری اور فروری میں دفاعی اثاثے قبرص اور قطر منتقل کیے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ہفتہ کو ایرانی پر حملے شروع ہوئے تو برطانوی طیارے فضا میں تھے، جنہوں نے برطانوی فوجیوں کی رہائش گاہوں کی طرف جاتے ڈرونز مار گرائے۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی شہریوں کو لانے والی حکومتی چارٹرڈ پرواز اڑان بھر چکی ہے، چار ہزار برطانوی شہری دیگر پروازوں سے واپس برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔





