میڈیٹیرین ڈائٹ (بحیرہ روم کے علاقے کی خوراک) جسے صحت بخش ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سراہا گیا ہے، اسکی وجہ اس میں شامل فروٹ، سبزیاں اور ثابت اناج ہے جو کئی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
تاہم اب اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اسے بھول جائیے کیونکہ سائنسدانوں نے ایک اور ایسا علاقہ دریافت کیا ہے جہاں کی خوراک کے استعمال سے کینسر (سرطان) لاحق ہونے کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ روایتی افریقی ڈائٹ جو کہ اناج جیسے باجرا، جڑ والی سبزیاں مثلاً گاجر، چقندر، پیاز، لہسن وغیرہ، اروی اور اسکے سبز پتے شامل ہیں، اور انکا استعمال امراض قلب، ٹائپ ٹو شوگر (ذیابیطس) اور کینسر تک سے محفوظ رہنے میں کافی موثر ثابت ہوتا ہے۔
ہالینڈ کے محققین نے دو درجن افراد کو اپنی تحقیق میں شامل کیا اور انکی خوراک کو فالو کیا، ان افراد کو مذکورہ بالا روایتی افریقی ڈائٹ پر عمل کروایا گیا اور اسکے ڈرامائی نتائج سامنے آئے اور نکے جسم میں سوزش حیران کن حد تک کم ہوئی۔
سوزش، جو اس وقت ہوتی ہے جب مدافعتی نظام جسم میں بیرونی مداخلت کرنے والوں پر حملہ کرتا ہے، یہ برطانیہ میں اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ سائنسدانوں نے یہ بھی پتہ لگایا کہ غذا کا جسم کو بیکٹیریا اور وائرس سے لڑنے میں مدد کے حوالے سے دیرپا اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے بڑھتی عمر کا عمل ممکنہ طور پر سست ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق سے پتہ چلا کہ افریقی غذا اور کم پراسیسڈ خوراک کھانے سے مدافعتی نظام اور مٹاپے کے خطرات پر موثر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ہالینڈ کے شہر نجمین میں واقع ریڈباؤڈ یونیورسٹی کے گلوبل ہیلتھ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوئیرجن ڈی ماسٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سابقہ ریسرچ میں روایتی ڈائٹ جس میں کہ جاپانی اور بحیرہ روم کے ڈائٹس شامل ہیں، پر فوکس کیا گیا تھا، لیکن روایتی افریقی خوراک پر تحقیق سے کافی مثبت فوائد سامنے آئے۔